29 جون 2013 - 19:30
دنيا کو امريکہ کے جاسوسي پروگراموں پرغور کرنا چاہيے

اکواڈور کے وزير خارجہ نے کہا ہے کہ پوري دنيا کو ايڈورڈ اسنوڈن کے بجائے امريکہ کے جاسوسي پروگراموں پرغور کرنا چاہيے-

ابنا: ريکارڈو پاتينو کا کہنا تھا کہ امريکي انٹيليجنس کا راز فاش کرنے والے کے بارے ميں دنيا کي تشويش بے جا ہے بلکہ امريکہ کے جانب سے دنيا کي نگراني کے خفيہ پروگراوں پر تشويش ہونا چاہيے-انہوں نے کہا کہ امريکہ کو دنيا بھر کے عوام کے سامنے اس بات کي صاف اور شفاف وضاحت پيش کرنا چاہيے ليکن اس کے برخلاف ساري دنيا کي توجہ ايڈورڈ اسنوڈن کے ساتھ پيش آنے والے واقعات پر مرکوز ہوکے رہ گئي ہے-اکواڈور کے حکام کھل کر  کہہ چکے ہيں کہ جب تک اسنوڈن انکے ملک يا سفارت خانے تک  نہيں پہنچ جاتا وہ اس کي سياسي پناہ کي درخواست پر غور نہيں کريں گے-اکواڈور کے ايک اعلي عہديدار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کي شرط پر بتايا ہے کہ  اکواڈور نے روس سے درخواست کي تھي کہ اسنوڈن کو وزير خارجہ ريکارڈو پاتنيو کےساتھ ماسکو سے کيٹو آنے کي اجازت دي جائے جسے روس نے مسترد کرديا ہے-واضح رہے کہ امريکہ نے ايڈورڈ اسنوڈن کا پاسپورٹ منسوخ کرديا ہے جس کے  بعد سے کہا جارہا ہے کہ  وہ ماسکو کے ايئرپورٹ پر مقيم ہے....../169